چین میں روبوٹ کا 66 میل پیدل چلنے کا عالمی ریکارڈ
چین میں ایک روبوٹ نے 66 میل (تقریباً 106.3 کلومیٹر) پیدل چل کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔
روبوٹ کا نام ہے اے جی آئی بوٹ اے ٹو جو انسانی جسامت رکھتا ہے۔ اس نے چینی شہر سوزہو سے چلنا شروع کیا اور صبح شنگھائی پہنچا۔ یہ سفر تین دنوں پر محیط تھا اور روبوٹ نے بیٹریاں بدلنے کے باوجود چلنا نہ روکا کیونکہ یہ "لانگ اسٹینڈ" پیدل چلنے کا ٹیسٹ تھا۔
اس ٹریک کے بعد اسے گنیز ورلڈ ریکارڈز میں "طویل سفر پیدل چلنے والا روبوٹ" کے عنوان سے عالمی اعزاز سے نوازا گیا۔
اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دور کے ہیومنائیڈ روبوٹ "لیبارٹری پروٹوٹائپ" سے آگے نکل چکے ہیں حتّیٰ کہ شہری سڑکیں، مختلف فرش، ٹریفک، دن رات کے فرق میں اپنا راستہ خود ناپ سکتے ہیں۔
اس ٹیسٹ کے ذریعے روبوٹکس کے شعبے میں استحکام، خودمختاری اور برداشت کی صلاحیتوں کا مظاہرہ ہوا ہے جو مستقبل میں روبوٹک سائنس کے لیے عملی طور پر مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔
روبوٹ کا نام ہے اے جی آئی بوٹ اے ٹو جو انسانی جسامت رکھتا ہے۔ اس نے چینی شہر سوزہو سے چلنا شروع کیا اور صبح شنگھائی پہنچا۔ یہ سفر تین دنوں پر محیط تھا اور روبوٹ نے بیٹریاں بدلنے کے باوجود چلنا نہ روکا کیونکہ یہ "لانگ اسٹینڈ" پیدل چلنے کا ٹیسٹ تھا۔
اس ٹریک کے بعد اسے گنیز ورلڈ ریکارڈز میں "طویل سفر پیدل چلنے والا روبوٹ" کے عنوان سے عالمی اعزاز سے نوازا گیا۔
اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دور کے ہیومنائیڈ روبوٹ "لیبارٹری پروٹوٹائپ" سے آگے نکل چکے ہیں حتّیٰ کہ شہری سڑکیں، مختلف فرش، ٹریفک، دن رات کے فرق میں اپنا راستہ خود ناپ سکتے ہیں۔
اس ٹیسٹ کے ذریعے روبوٹکس کے شعبے میں استحکام، خودمختاری اور برداشت کی صلاحیتوں کا مظاہرہ ہوا ہے جو مستقبل میں روبوٹک سائنس کے لیے عملی طور پر مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔
اپنی رائے دیں:
تازہ ترین تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں۔ پہلا تبصرہ کریں!